بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام عیدالفطر کے موقع پر احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں ایک بار پھر حکومت سے لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ دہرایا گیا۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں لگائے گئے بھوک ہڑتالی کیمپ سے شروع ہونے والی اس ریلی میں انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔
ریلی کے شرکا سے خطاب میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے نائب صدر ماما قدیر نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ لاپتا بلوچ نوجوانوں کو بازیاب کرایا جائے اور کسی کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو اُس عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ہزاروں بلوچ نوجوان لاپتا ہیں جن کے بارے میں لواحقین کو کچھ بتایا بھی نہیں جا رہا۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ماما قدیر کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم لاپتا افراد کے لواحقین کےساتھ مل کر گزشتہ نو عیدیں اسی طرح احتجاج کرتے ہوئے گزار چکی ہے لیکن ان کے بقول اب تک اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔
"جب تک کہ ہمارا ایک بھی لاپتا فرد بازیاب نہیں ہوتا  اس وقت تک ہمارے احتجاج جاری رہیں گے۔ آج مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے خوشی کا دن ہے۔ ہر گھر میں خوشی منا رہے ہیں لیکن بلوچستان میں ہر بلوچ کے گھر ماتم ہے۔ ہر گھر سے دو آدمی اٹھائے گئے ہیں یا شہید کیے گئے ہیں تو ان حالات میں کون خوشی منائے گا۔"
ماما قدیر کا نام خاص طور پر اس وقت بین الاقوامی سطح پر منظر عام پر آیا جب انھوں نے رواں سال اوائل میں لاپتا افراد کے لواحقین کے ہمراہ کوئٹہ سے اسلام آباد تک کا دو ہزار کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ پیدل طے کیا۔
گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں لاپتا افراد اور جبری گمشدگیوں کے واقعات اور ان کے خلاف احتجاج چلتا آ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بعض غیر جانبدار تنظیموں کے مطابق احتجاج کرنے والوں کے دعوؤں کے برعکس لاپتا افراد کی تعداد ہزاروں نہیں سینکڑوں میں ہو سکتی ہے جب کہ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صرف 47 لاپتا افراد کی شکایت درج کروائی گئی ہے۔
پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں بھی لاپتا افراد سے متعلق مقدمات زیر سماعت ہیں۔
لاپتا افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیوں کو الزام عام طور پر سکیورٹی ایجنسیوں پر عائد کرتے ہیں جسے حکومت اور سکیورٹی فورسز مسترد کرتی آئی ہیں۔



لندن( این این آئی) بلوچ رہنماء میر جاوید مینگل نے مذہبی انتہاء پسندوں کی جانب سے کوئٹہ و مستونگ میں خواتین پر تیزاب پھینکنے اور پنجگور میں بچیوں کی تعلیم پر قدغن لگانے، تعلیمی اداروں کے بندش کی بھر پور الفاظ سے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی انتہاء پسندوں نے خواتین کی چہروں کو نہیں بلکہ بلوچ روایات، اقدار، اور انسانیت کی چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہیں۔ قبضہ گیر ریاست اور اْس کے گماشتے بلوچ قومی تحریک میں بلوچ خواتین کی کردار اور سرگرم عمل ہونے سے خوفزدہ ہوچکے ہیں۔ اب اوچھے ہتکھں ڈوں کی زریعے خواتین کو ٹارگٹ کی جارہا ہے۔ بلوچ خواتین نے جس بہادری کا مظاہرہ کرکے باباء4 بلوچ نواب خیر بخش مری کے جسد خاکی کو فوج اور اْن کے کاسہ لیسوں کے قبضے سے اپنی تحویل میں لیکر قومی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کیا۔ اس کے علاوہ لاپتہ بلوچ فرزندوں کی بازیابی کے تحریک اور لانگ مارچ میں بلوچ بیٹیوں کے کردار تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ آئی ایس آئی اور اْس کے کارندے اب اس طرح کی حرکتیں کرکے انہیں قومی جہد سے دور کوشش کررہے ہیں لیکن وہ اس طرح کے غلیظ حرکتوں سے بلوچ خواتین کو خوفزدہ نہیں کرسکتے۔ میر جاوید مینگل نے مزید کہا یہ خواتین پر تیزاب پھینکنے کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل خضدار، خاران، قلات سمیت دیگر علاقوں میں اس طرح کی دلخراش واقعات پیش آئیں ہیں اور کوئٹہ میں انہی مذہبی قوتوں نے طالبات کی بس کو اپنی حیوانیت کا نشانہ بناچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض پاکستانی فوج بلوچ سیاسی و قبائلی روایات کو روند کر ایک گہری سازش کے زریعے بلوچستان میں مذہبی انتہاء پسندی کو پروان چڑھا رہی ہے لیکن بلوچ ایک لبرل اور سیکولر قوم ہے۔ بلوچستان اور بلوچ معاشرے میں مذہبی جنونیت اور درندگی کی کوئی گنجائش نہیں۔ میر جاوید مینگل نے کہا کہ آئی ایس آئی اور فوج نے طالبان کے زریعے پشتون کلچرل کو ملیامیٹ کرنے اور تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے بعد اب بلوچستان کا رْخ کرچکے ہیں۔ پنجگور میں گزشتہ کئی ماہ سے گرلز تعلیمی ادارے بند ہیں۔ خواتین کی تعلیم حاصل کرنے پر جبری پابندی، اسکولوں کی بندش اور خواتین پر تیزاب پھیکنے میں قابض ریاست کے تشکیل کردہ مذہبی دہشت گرد تنظیمیں اور ڈیتھ اسکواڈز ملوث ہیں جو بلوچ قوم کے آزادی کی تحریک کو کاونٹر کرنے اور عالمی سطع پر بدنام کرنے کے لئے اس طرح کے انتہاء4 پسند قوتوں و تنظیموں کی افزائش اور حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔میر جاوید مینگل نے مزید کہا کہ بلوچ قوم اور آزادی پسند قوتیں مذہبی جنونی ملاوں کا راستہ روکنے اور ایسے واقعات کی تدارک کے لئے متحد ہوجائیں اور اْنہیں منہ توڑ جواب دیں۔ اْنہوں نے عالمی اداروں اور مہذب ممالک سے اپیل کی ہیکہ وہ پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں طالبائزیشن کو پروان چڑھانے سے روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ایسا نہ ہو کہ پاکستان اور اْس کے خفیہ ادروں کی اسپونسرڈ مذہبی انتہاء پسند پورے خطے کو اپنی لیپٹ میں لے آئے۔








رکھنے کی ناکام

قابض پاکستان ہمارے خواتین پر تیزاب پھینک کر ہمیں یہی احساس دلا رہا ہے کہ ہم غلام ہیں ۔ حیر بیار مری
لندن (بی یوسی نیوز) بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے بیان میں پاکستان کے فوج اور آئی ایس 
آئی کے پیر رول پر چلنے والے مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے بلوچ خواتین پر تیزاب پھینکنے کو غیر انسانی اور غیر اخلاقی فعل قرار دے کر اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت بلوچستا ن میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے تاکہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو کاوٗنٹر کر سکے جیسے جیسے بلوچ قومی آزادی کی تحریک زور پکڑتا جارہا ہے بلوچستان میں پاکستانی ایجنسیوں اور آرمی کے پالے ہوئے مذہبی انتہاپسندوں کی کاروائیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس میں خصوصی طور پر بلوچ خواتین کو ٹارگٹ بنایا جار ہا ہے کیونکہ اس وقت بلوچ خواتین بلوچ قومی آزادی کے لیے اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ ہی جدوجہد کر رہے ہیں حال ہی میں مستونگ اور کوئٹہ میں بلوچ خواتین پر تیزاب پھینکے کا واقعہ پاکستانی ایجنسیوں اور فوج کے بزدلانہ حرکتوں کو واضع کرتا ہے۔انہوں نے کہا بلوچ معاشرے میں خواتین کو ایک معزز مقام حاصل ہے لیکن آج قابض پاکستان ہمارے خواتین پر تیزاب پھینک کر ہمیں یہی احساس دلا رہا ہے کہ ہم غلام ہیں اور ہمارے قسمت کا فیصلہ صرف قابض کر سکتا ہے ہماری شناخت مٹانے کے ساتھ ساتھ ہمارے ننگ و ناموس کے چہرے بگاڑنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں پاکستانی فوج بلوچ قوم کی خاص کر بلوچ نوجوانوں اور بہنوں کی جدوجہد کی وجہ سے حواس باختہ ہے جس کا مثال کچھ مہینے پہلے پنجگور میں بلوچ خواتین کو تعلیم کے زیور سے دور کرنے کے لیے پاکستان نے اپنے مذہبی اور ڈیتھ سکواڈز کے زریعے لڑکیوں کی تعلیمی بندش کا سلسلہ شروع کیا تین مہینے سے پنجگور میں لڑکیوں کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔حیربیار مری نے کہا پاکستانی ایجنسیاں اور فوج پنجاب کو آگے لے جانے کے لیے بلوچستان ور پشتونخوا میں اپنے مذہبی انتہاپسندوں کے زریعے تعلیم کو تباہ کر رہا ہے۔ اور خواتین جو کہ کسی معاشرے کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں انہیں گھروں تک محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسی طرح دنیا کو انہی مذہبی انتہاپسندوں کے نام پر بے وقوف بنا کر اورپیسے بٹورکر پنجاب کی ترقی خوشخالی اور تعلیم کے لیے استعمال کر رہا ہے پنجاب کی یونیورسٹیوں میں لڑکے اور لڑکیا ں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کے لیے سب ٹھیک ہے لیکن بلوچ اور پشتون کے خواتینسودا سلف کے لیے باہر نکلتے ہیں ان پر تیزاب پھینکا جاتا ہے سکولوں کو بموں سے اڑایا جاتا ہے تاکہ وہمقبوضہ بلوچستان اور پشتونخوا کو اپنے مذہبی انتہاپسندوں کے زریعے تعلیم سے دور رکھ کر ہمیشہ کے لیے غلام بناسکیں اوران کے نام پر اپنے آپ کو ترقی دے سکیں۔حیربیار نے کہا کہ بلوچ معاشرہ جو ہزاروں سال سے اعتدال پسند رہا ہے اسے قابض پاکستانی ریاست اسے انتہا پسندی کی طرف لے جار ہا ہے جو کل یہ دوسرا وزیرستان بھی بن سکتا ہے وزیرستان وغیرہ میں بھی پاکستان نے پہلے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگایا اور خواتین کے چہروں پر تیزاب پھینکے اگر اس وقت انہیں کنڑرول کیا جاتا تو آج دنیا کے لیے وہ درد سر نہیں بنتے بلوچستان میں ابھی یہ نیا نیا شروع ہوا ہے اس لیے بین الاقوامی دنیا کو پاکستان اوار اس کے ڈیتھ سکواڈ مذہبی جنونی لوگوں کے عمل اور حرکت کا نوٹس لینے چاہیے تاکہ پاکستان کی مذہبی جنونیت کو پھیلنے سے وقت پر روکا جا سکے دنیا کو اس گمبیرمسلئے کی ایمیت کوسمجنا چایہے







ثیم انور
یوں تو بلوچستان میں بلخصوص بلوچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی داستاں بہت طویل ہے۔ 1948 میں بلوچستان پر غاصبانہ قبضے سے لے کر تاحال جاری بربریت اور ظلم و ستم میں ہزاروں بلوچوں کو مارا گیا۔ 1948 کے بعد 1958-59، 1963-69، 1973_77 اور 2001 سے اب تک بلوچوں کے خلاف ملٹری آپریشن کئے گئے۔ لیکن بلوچستان کے اس طویل بحران میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بلوچ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ ریاستی اداروں کے خلاف تحریک میں شامل ہوئیں ہیں۔ بلخصوص ریاستی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے بلوچوں کی بازیابی کے لئے بلوچ خواتیں کا کردار دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچوں کے حقوق کی اس جنگ میں چاہے وہ مظاہرے ہوں، دھرنے ہوں، ریلیاں ہوں، لانگ مارچ ہو، سیمینار ہوں، پریس کانفرنس ہوں یا بھوک ہڑتالی کیمپ، بلوچ خواتین ہر پلیٹ فارم پر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتی ہیں۔
پاکستان میں بلوچ خواتین کے بارے میں عام تاثر یہ قائم کیا گیا تھا کہ انہیں ان پڑھ رکھا جاتا ہے اور چار دیواری سے باہر کی دنیا ان کے لئے ممنوع ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں بلوچوں کی آذادیِ حقوق کی تحریک میں بلوچ خواتین کی شمولیت نے نہ صرف اس تاثر کو غلط ثابت کیا بلکہ اس تحریک کو ایک نیا موڑ بھی دیا ہے۔ کریمہ بلوچ، فرزانہ مجید، حورن بلوچ، زر جان بلوچ چند ایسی بلوچ خواتین ہیں جو بلوچستان میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں ہونے والت اغواء، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بلوچ عوام کی آواز بن گئیں ہیں۔
لیکن جہاں ایک طرف بلوچ خواتین کی شمولیت نے بلوچستان کی تحریک کو ایک نیا موڑ دیا ہے، وہیں ریاستی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے بلوچوں کے خلاف رویوں اور حربوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ 2013 تک یہ حربے بلوچ مردوں کے لاپتہ ہونے، مسخ شدہ لاشوں اور ملٹری آپریشن تک محدود تھا، لیکن اب ان حربوں میں بلوچ خواتین کو ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ بھی شروع کو دیا گیا ہے۔ مئی 2014 میں پنجگور میں قائم اسکولوں کو جاری کئے گئے دھمکی آمیز خطوط میں صرف اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ بلوچ لڑکیاں تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دیں اور گھروں میں بیٹھ جایئں بصورتِ دیگر انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ جبکہ حالیہ دنوں میں کوئٹہ میں چار اور مستونگ میں دو خواتین پر تیزاب پھینکا گیا۔ ان چھ خواتین میں صرف ایک پہلو مشترک ہے کہ یہ سب بلوچ ہیں۔ اور ان سب اوچھے ہتھکنڈوں کا مقصد بھی صرف ایک ہے کہ بلوچ خواتین اپنے گھر کی چار دیواری تک محدود ہو جائیں۔
اس تمام صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر بلوچ خواتین تحریکِ بلوچستان سے پیچھے نہیں ہٹتیں تو آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ اور کیا سلوک کیا جائے گا؟ نہ آج تک دھمکی آمیز خطوط بھیجنے والی تنظیم الاسلام الفرقان کا پتا چلا اور نہ ہی ان تیزاب پھینکنے والوں کا پتا چلے گا۔ اگو پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس ملک میں بلوچ خواتین اپنے اور اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پہ سراپہ احتجاج ہیں تو یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف ان کے مسائل کو سنیں بلکہ ان کے تدارک کے لئے عملی اور ٹھوس اقدامات بھی کریں۔ اگر ان حالات میں بلوچ خواتین کی عزت اور جان کو خطرات لاحق ہیں تو اس کی حفاظت بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ بلوچ لڑکیوں کی تعلیمی بندش اور تیزاب پھینکنے جیسے واقعات کو نہ روکا گیا اور ایسے واقعات کا تسلسل جاری رہا تو اس کی سرا سر ذمہ دار وفاقی حکومت اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ پر بھی ہو گی۔ ویسے بھی بلوچستان میں سب سے ذیادہ ہائی الرٹ سیکیورٹی والے ڈسٹرکٹ پنجگور اور  بلوچستان کے سب سے ذیادہ ہائی سیکیورٹی الرٹ والے شہر کوئٹہ میں اور وہ بھی ایسے وقت میں پر جب بلوچستان کی تحریک زوروں پر ہے، ایسے واقعات کا جنم لینا وفاقی و صوبائی حکومتوں، ریاستی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔


زرجان بلوچ ایک ایسا نام جس سے پاکستان کی آدھی سے ذیادہ آبادی یقیناً ناواقف ہے۔
زرجان بلوچ ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغواء ہونے والے بی ایس او آزاد کے چیئرمین ذاہد بلوچ کی بیوی ہے۔ زاہد بلوچ کو 13 مارچ 2014 کو کوئٹہ سے ایف سی کئی لوگوں کی موجودگی میں اٹھا کر لے گئی تھی۔  زرجان بلوچ اس وقت اپنے کمسن بیٹے قمبر کے ساتھ اسلام آباد پریس کلب کے بایر اپنے شوہر کی بازیابی کیلیے بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں۔
اس سے پہلے اپریل 2014 کو لطیف جوہر بھی زاہد بلوچ کی بازیابی کے لئے کراچی پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ لطیف جوہر کی بھوک ہڑتال سول سوسائٹی اور دیگر اداروں نے اس وعدے پر ختم کروائی تھی کہ زاہد بلوچ کی بازیابی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ اور یہ انہیں جھوٹے وعدوں اور دعووں کا نتیجہ ہے کہ اب لطیف جوہر کے بعد زاہد بلوچ کی بیوی گونگے اور بہرے انصاف کے دعوے داروں کے سامنے اپنے شوہر کی بازیابی کی لئے بھوک ہڑتال کر رہی ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے اپنے ننھے منے بچے کے ساتھ انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے۔ لیکن اس عورت کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
انصاف کے ایوانوں اور حکمرانوں کی بے حسی ایک طرف، لیکن پاکستانی میڈیا بھی اس معاملے میں چپ کے قفل لگائے بیٹھا ہے۔ حالانکہ پاکستان میں بنتِ حوا کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور ظلم و ستم پر میڈیا کی بریکنگ نیوز، تبصرے اور رپورٹوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن جب معاملہ ہو بلوچ عورت کے حقوق کی پامالی کا تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یا تو بلوچ عورت اس سسٹم کا حصہ نہیں، یا اس کے حقوق کی کوئی اہمیت نہیں، یا پھر شاید وہ عورت ہی نہیں۔ پاکستان کا کوئی ایک بھی ایسا نیوز چینل نہیں جس نے زرجان بلوچ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو اپنی خبروں کا حصہ بنایا ہو۔
چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ اے آر وائی اور جنگ نیوز کی جنگ اور حامد میر کی بلوچوں کے حقوق پر لب کشائی کی سزا سے اسٹبلشمنٹ نے پاکستانی میڈیا کو ڈرا دھمکا کر قابو کر لیا اور میڈیا اپنی بقاء کی خاطر بلوچوں کے معاملے میں اندھا، گونگا اور بہرہ بن گیا۔ لیکن دوسری طرف بلوچستان کی صوبائی حکومت کی بے حسی پر سر شرم سے جھک جاتا ہے وہ بھی ایسی حکومت جس کا سربراہ خود ایک بلوچ ہو۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ سے بہتر بلوچ معاشرے میں عورت کے مقام کو کون سمجھ سکتا ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ بھی گوارا نہیں کیا کہ زر جان بلوچ سے اظہارِ ہمدردی کرتے۔ کریمہ بلوچ کے بعد ڈاکٹر مالک نے ایک اور بلوچ بیٹی کو دھکے کھانے کے لئے تنہا چھوڑ دیا۔ معذرت کے ساتھ لیکن ڈاکٹر مالک بلوچ نے بلوچوں کے سر شرمندگی سے جھکا دیئے  اور بلوچی روایات و اقدار کو داغدار کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ اصولاَ بحیثیتِ بلوچ اور بحثیت وزیرِاعلیٰ  بلوچستان انہیں زرجان بلوچ کے پاس جانا چاہیئے تھا اور اسے چادر اور چاردیواری کا تحفظ واپس کرنا چاہیئے تھا لیکن ان کی بلوچی حمیت و غیرت بھی اقتدار کی بھینٹ چڑھ گئی۔

گو کہ آج کے پاکستان میں کسی بھی عورت کی عزت محفو

ظ نہیں مگر ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف میڈیا، سول سوسائٹی، سوموٹو نوٹس، حکومت کے فوری ایکشن۔۔۔ کچھ تو ہے۔ لیکن بلوچ عورت کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں کے خلاف وہ اکیلی ہے۔ پاکستانی عورت اور بلوچ عورت کے درمیان واضح تفریق کا کیا مطلب نکالا جائے؟ زرینہ بلوچ، کریمہ بلوچ، زرجان بلوچ، بلوچ لڑکیوں کی تعلیم پر بندش اور اربابِ اختیار کی بند زبانیں اور پھر ایسے میں یہ امید رکھنا کہ بلوچ قوم پاکستان سے محبت کریں، پاک فوج ذندہ باد کے نعرے لگائیں، یا پھر بلوچ مائیں اپنے بچوں کو پاکستان بننے کی لازوال داستانیں سنا کر بڑا کریں تو یہ ہماری خام خیالی سے ذیادہ اور کچھ نہیں

Google+