Happy Mother's Day
means more than flowers and gifts
It means saying thank you
It means I love you
You are my mother, my friend
Today is your day!



لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1590دن ہوگئے ۔لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں وکلاء برادری سول سوسائٹی کے لوگوں نے بڑی تعداد میں لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں پاکستان آرمی ایف سی اور قبضہ اداروں کا کردار قابل تعریف اور جمہوریت کی فروغ میں معاون ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگر جمہوریت اتنا آزاد ہوتا تو آج سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے منعقد کئے گئے سپریم کورٹ کے احکامات اگر اتنے ہی مقدس پایا ورفل ہوتے تو اس نے جبری گمشدہ بلوچ فرزندوں کی مقدمہ کی سماعت کے دوران 28نومبر 2013کو حکم دیا تھا کہ بلوچستان میں ایف سی آئی جی میجر جنرل اعجاز شاہد اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں نامزد فوج ایف سی وخفیہ اداروں کے اہلکاروں بریگیڈیر اورنگ زیب کرنل نعیم میجر طاہر صوبیدار مومن والد بخش سمیت 19افراد اہلکار29نومبر کو عدالت م یں پیش کئے جائیں جبکہ 29نومبر 2013کو بھی مذکورہ افسران واہلکار عدالت میں پیش نہیں کئے گئے عدالت نے مذکورہ ملزمان کو سی آئی ڈی کوئٹہ کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا مگر پاکستان کی تاریخ کے مضبوط وفعال چیف جسٹس کی مذکورہ احکامات پر بھی حکومت نے کوئی عملدرآمد نہیں کیا یوں بیچارہ چیف جسٹس چوہدری افتخار اپنے مذکورہ بالا عدالتی احکامات کے تعمیل کی حسرت دل میں لئے 11دسمبر 2013کو ملازمت سے ریٹائرڈ ہوگئے میرا مقصد اس حقیقت کو ثابت کرنا ہے ۔کہ یہ کٹھ پتلی حکومت اور ان کے آقاؤں کیلئے عدالتی احکامات کی دراصل کوئی اہمیت نہیں کیا پاکستان آرمی ایف سی اور خفیہ اداروں کا کردار بلوچستان میں جمہوریت کی فروغ میں معاون وقابل تعریف ہے ۔یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سیاسی ومذہبی فکر نظریہ کی آزادی اظہار رائے کی آزادی جان ومال نجی زندگی اور چادر چاردیواری کے تقدس کی تحفظ بلا رکاؤٹ نقل وحرکت کی آزادی مناسب تعلیم اور دیگر بنیادی انسانی حقوق کی تحفظ کے بغیر جمہوریت کا ریل کبھی پٹڑی پکڑ ہی نہیں سکتا مگر ایف سی خفیہ اداروں اور ان کی سرپرستی میں قائم وسرگرم عمل ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں بلوچ عوام کی جان ومال اور چاردیواری کا تقدس غیر محفوظ ہیں سیاسی کارکنوںں طلباء تنظیموں نوجوانوں کیلئے تعلیم روزگار اور آزادانہ نقل وحرکت یسے جمہوریت کے دروازے عملاً بند ہیں ۔





چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
---
مئے ترس ءَ زمین لرزیت مئے بیم ءَ کلات جکسنت
ما کوھیں ‌مزار چُکیں ‌، ما گلڑیں ‌شیرانی
---
چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
---
ما کوپگیں ‌پِسّانی ، ما جامگیں ‌ماسانی ما پنجگیں ‌براتانی ، ما لجیں ‌گہارانی
---
چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
---
ما نان دئے ءُ داد بکشیں ، ما سردئے ءُ نام کشیں ما ھونی میار جلیں ، ما دیما رویں ‌بیرانی
---
چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
---
ماں گیرتءِ شیر متکگ ما ساھگ ءَ زھمانی ھون پٹ ایت چہ مئے چماں ما کومیں‌ شھیدانی
---
چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
ھون زرور کار ءَ کئیت یک روچے مئے قوم ءِ تاوان نہ بنت ھچبر نازیک مئے ماسانی
---
چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
---
ما پشتیں ‌یتیمانی لاچاریں‌ گریبانی زُلم ءِ ھسار ءَ پروشیں ‌دور نئیت پدا زُلمانی
---
چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
چکّاسیں ‌ھزار رند ءَ تیراں ‌وتی دلبندءَ قول انت تئی پرزندءَ گوں ‌گونڈلاں ‌تیرانی
---
چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
چم روک انت بلوچستان نامداریں ‌بلوچانی درگاہ انت شھیدانی شھموکیں‌ سگارانی
---
چُکیں بلوچانی ما چُکیں ‌بلوچانی
alochi Chappal is being made since the dawn of Baloch nation in the region, which is approximately 95 years ago. The evolution of balochi chappal has come from the southern region i.e. Dera Bugti, Kuhlu, Bolan, Wadd, Khuzdar. Balochi chappal is very much popular in all over Balochistan, because it is the indigenous shoes and is in the civilization of Baloch tribes.
In past time Balochi chappal was completely made up of leather, the sole was also made with leather. Many pieces of leather were joined together and made it hard to some extent and a complete chappal was made. Even at present time, in some tribes of Balochistan such chappals are made used. Such chappal is called Kosh in Balochi.
But slowly and gradually when people migrated from tribal areas to cities, they came to know that using leather pieces as sole becomes very much expensive for them, and they also found car tire to be used as the sole. Then they started using tires as the sole of Balochi chappal in place of leather pieces.

The beginning of Balochi Chappal starts from cutting the leather according to the size of required number, after cutting designs are made on it, (Sizes of each number of feet are already made on a piece of hard paper). Leather is put on that paper and cut according to that. After cutting the leather, sole is cut according to the required size. Aster is fixed on the hard tire sole to make it soft. Holes are made in the sole with an instrument (zamboor) and leather parts are dragged from those holes to fix leather with the sole. When they finished with that, a chappal shaped wooden piece (Farma) is fixed in that to make it hard so that they could easily fix its designs, when the incomplete chappal is fixed in Farma, now leather is cut in different designs to fix them on the chappal and a complete chappal is made.


میں غلام اسٹوڈنٹس ہوں انٹرنیٹ سے محروم ہوں اب بھی میرے بیگ میں کتابیں ہیں ۔ کالج اور یونیورسٹی کے قریب مجھے جانے نہیں دیا جاتا ہے الزام وہی جھوٹا ہے کہ آپ دہشتگردی پھیلاتے ہیں۔ لیکن 22 اپریل سے میں اپنے اغواء شدہ لیڈر بی ایس او آزاد کے چیئرمیں زاہد بلوچ سمیت اپنے دوسرے دوستوں کی بازیابی کیلئے اپنی آرگنائزیشن کے فیصلے کے مطابق تادم بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہوں مجھے مرنے کا شوق نہیں ہے۔ میں بھی زندہ رہ کر علم حاصل کرنا چاہتا ہوں اور انسانیت کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔ میرے آرگنائزیشن نے مجھے انسانیت کا درس دیا ہے۔ میں کسی دوسرے پر ظلم نہیں کرسکتا لیکن اپنے آپ پر کر سکتا ہوں۔ اس لیے اپنے پر تشدد کرکے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہوں میرے مرنے کا مقصد اسٹوڈنٹس ، کتاب اور قلم کو محفوظ کرنا ہے۔ لہٰذا میں یونیسکو جو کتاب عالمی دن کو ہرسال منانے کی اپیل کرتی ہے سمیت تمام علم اور کتاب دوست انسانوں اور ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس پر ہونے والی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں ۔اور بلوچ اسٹوڈنٹس کا ساتھ دیکر بلوچ مسلے کو حل کرنے میں مدد کریں۔آپ ہمیں دنیا کے تمام ترقی پسند اسٹوڈنٹس کے ہم قدم اور ہم آواز پائیں گے۔علم و قلم دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ بلوچستان میں پابند سلاسل بلوچ اسٹوڈنٹس اور زنجیروں سے جکڑی ہوئی کتاب اور قلم کے متعلق ضرور بولیں اور انکے رہائی کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ میرے آرگنائزیشن کا اور میرا مقصد اسٹوڈنٹس ، کتاب اور قلم کو محفوظ کرنا ہے

Google+